دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے
مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، تو نے کہا
آنکھ کو دھندلا رہا، ہلکا سا پانی، کس لئے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے، غم نہیں
حزنیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
بے ضرر، بے فیض پیروں میں پڑے رہتے ہیں جو
ڈھونڈنا اُن پتھروں میں اُس کا ثانی، کس لئے
وصل جاناں گر تصور ہی تلک محدود ہے
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لئے