روشنی کے مقدر میں نیندیں کہاں، چاند میں تاک پردہ سجائیں کہیں
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIروشنی کے مقدر میں نیندیں کہاں، چاند میں تاک پردہ سجائیں کہیں
ہمیں چراغ وفا کی طرح جلنا ہے رات بھر آسماں تا زمیں وہ جلائیں کہیں
وہ بھٹکتی ہوئی روحیں جیسے ملیں، یوں ملے وہ نگاہیں مگر خوف ہے
زیست ہے رات میں جنگلوں کا سفر اس جنم میں بھی ہم کھو نہ جائیں کہیں
شہرتیں مثل مینارِ عظمت ہمیں آسماں کی طرف لے چلی ہیں مگر
جی میں ہے سبز پیغمبروں کی طرح سینائے سنگ سے سر اٹھائیں کہیں
بر ف سی اجلی پوشاک کے پہنے ہوئے پیڑ جیسے دُعاؤں میں مصروف ہیں
وادیاں پاک مریم کا آنچل ہوئیں آؤ سجدہ کریں سر جھکائیں کہیں
کوئی کتبہ نہیں ہے سر راہ ہم جس پہ اقوالِ زریں بدلتے رہیں
ہم تو آنسو ہیں پلکوں پہ رکھ لو ہمیں جب اشارہ کرو ٹوٹ جائیں کہیں
ان کہے شعر ہیں وادیئے جہاں میں مختلف رنگ کے جھلملائے دیئے
دستِ الفاظ محفوظ کر لے ا نہیں چل رہی ہے ہوا بجھ نہ جائیں کہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






