ریاض سیکھ منافقت،رہنا جو ہے یہاں ۔۔۔
Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.آئی عقل تو ہم نے کیا محترم اُسے
عہد کیا ہے، اب نہ کبھی دیں گے غم اُسے
لڑ جائے زمانے سے وہ ، جو عہدِ وفا ہو
ایک ہی تو آسرا ہے ، تیرا دم اُسے
نباہ نہیں سکتا اگر تو چھوڑ دے اُس کو
کیا دی ہے تو نے اب تلک، تکلیف کم اُسے
جلدی تھی عقدِ ثانی کی، اُس تازی بیوہ کو
مشورہ میں نے دیا، عدت ہے، تھم ، اُسے
جس قدر نحیف اور تھی منحنی سے وہ
اُتنا ہی شوہر ملا، بھاری بھرکم، اُسے
گِری ہے جب سے قوتِ خرید سکے کی
روپیہ نہیں ، پسند ہیں اب، ڈالر درھم اُسے
پھنسائے جِسے دام میں، دے زخمِ محبت
نمک چھڑک کے کہہ دے کہ، لگا مرہم اُسے
اُسکی دوستی و پیار میں ہے دشمنی چھپی
ڈرتا ہوں کیا ہوگا، اگر کیا برہم اُسے
معصوم اور مجبور ہے گمراہ اُسے نہ کر
خودکش بنا نہ باندھ کے، سینے سے بم، اُسے
چھوڑ تو چمن کو میرے، شمسِ حوادث
زمیں میں بیج ڈال دوں، رہنے دے نم اُسے
نڈر تھا وہ کہ سر پہ اُس کا باپ تھا اور اب
ڈرا رہے ہیں، زندگی کے پیچ و خم اُسے
ریاض سیکھ منافقت،رہنا جو ہے یہاں
جو حق کہے تو جینے کب دیتے ہیں ہم اُسے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






