زبان مت کھول ، پھلے قوتِ گفتار پیدا کر
Poet: Shamim Kashfi By: SHAHZAD KASHFI, Karachiزبان مت کھول ، پھلے قوتِ گفتار پیدا کر
سخن دانی میں تاثیرِ گل و گلزار پیدا کر
اضافہ دشمنوں میں کم نظر ہی اپنے کرتے ہیں
کمالِ ہوشمندی ہے کوئ غم خوار پیدا کر
تجھے حاصل نہ ہو کیوں سرفرازی دارِ فانی میں
دلوں کو جیت لے سب کے وہی کردار پیدا کر
یہی ہر آدمی سے آدمیت کا تقاضہ ہے
محبت عام کے لے ، جزبہ ایثار پیدا کر
ارے ناداں ، سفر میں حوصلے کیوں پست کرتا ہے
قدم آگے بڑھا اور گر مئ رفتار پیدا کر
تجھے اہلِ نظر اپنی نگاہوں میں جگہ دیں گے
شعور و فکر میں اے کاشفی معیار پیدا کر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






