میرے ٹکڑے جگر کےتم میرے درد کا سھارا بھی

Poet: Sardar Ali Dervaish By: Sardar Ali, Dammam ( Chitral Pak)

میرے ٹکڑے جگر کےتم میرے درد کا سھارا بھی
کتنا خوش رنگ لگتا ھےتیرے سنگ آشیانہ بھی

مگن یوں کر گیا مجھ کو یہ بعدئ ؤ بندی نے
طوفان نگھانی بھی اڑا ڈالی بام سرائ بھی

رھی حسرت تیرے قدموں میں رھنے کی
غیر ممکن سا ھو گیا نکام سی کاویشئں بھی

کچھ یوں پڑ گیا شگاف زندگانی میں
لگ گئ آبادنگری کو چشم بدگمانی بھی

درویش۔نہ ہو مایوس ھے روئش کون ؤ مکان بھی
اکثر آمد بہ یک وقت اور صبح نگھانئ بھی

میرے ٹکڑے جگر کےتم میرے درد کا سھارا بھی
کتنا خوش رنگ لگتا ھےتیرے سنگ آشیانہ بھی

Rate it:
Views: 690
16 Mar, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL