میرے ٹکڑے جگر کےتم میرے درد کا سھارا بھی
Poet: Sardar Ali Dervaish By: Sardar Ali, Dammam ( Chitral Pak)میرے ٹکڑے جگر کےتم میرے درد کا سھارا بھی
کتنا خوش رنگ لگتا ھےتیرے سنگ آشیانہ بھی
مگن یوں کر گیا مجھ کو یہ بعدئ ؤ بندی نے
طوفان نگھانی بھی اڑا ڈالی بام سرائ بھی
رھی حسرت تیرے قدموں میں رھنے کی
غیر ممکن سا ھو گیا نکام سی کاویشئں بھی
کچھ یوں پڑ گیا شگاف زندگانی میں
لگ گئ آبادنگری کو چشم بدگمانی بھی
درویش۔نہ ہو مایوس ھے روئش کون ؤ مکان بھی
اکثر آمد بہ یک وقت اور صبح نگھانئ بھی
میرے ٹکڑے جگر کےتم میرے درد کا سھارا بھی
کتنا خوش رنگ لگتا ھےتیرے سنگ آشیانہ بھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






