زمین والوں کیسا یہ حادثہ ٹوٹا
Poet: Shameem Irfani By: Shameem Irfani, Afif, Saudia Arabiahزمین والوں پہ کیسا یہ حادثہ ٹوٹا
ہر ایک شخص کا اپنوں سے رابطہ ٹوٹا
میں ، حادثات زمانہ گوارہ کر بھی لوں
مگر یہ راز کھلے ، کیوں یہ سانحہ ٹوٹا
ہوائے تند سے شب بھر وہ کشمکش میں رہا
سر دریچہ ء خانہ ہے جو دیا ٹوٹا
وجود اس کا سنہرا تھا صرف خوابوں میں
وہ خود شناس ہوا ، جب یہ سلسلہ ٹوٹا
چلا ہے کوچہء جاناں کو ، پھر نوائے شوق
ہنوز ، سر پھرے دل کا نہ یہ نشہ ٹوٹا
سرور و کیف کا عالم ہے ہر جگہ ، ہر سو
امیر شہر پہ کیسا یہ سانحہ ٹوٹا
علاج ، وحشت دل کا ، مرے وہ کیا کرتے
کہ جن کا۔ اپنا سراپا ہے جا بجا ٹوٹا
تھا رات بھر ، حسیں خوابوں کا اک جہاں آباد
سحر ہوئی ، تو یکا یک یہ قافلہ ٹوٹا
قبائے دین و مروت جو تار تار ہوا
تو حق تعالی کا بندوں پہ حادثہ ٹوٹا
ترا جنون سلامت ، مگر بتا اے دل!
رہ وفا میں بچا کیا ہے اور کیا ٹوٹا
نہ جانے کتنے ہی ٹکڑوں میں بٹ گیا وہ شخص
جو اس کے ہاتھ سے ، اک بار آئینہ ٹوٹا
بچھڑ کے،راہ محبت پہ اب بھی ہوں قائم
مرے نصیب میں گر چہ ہے راستہ ٹوٹا
شمیم ! شیشۂ دل کو کہاں میں لے جاؤں
جو بار بار گرا ، اور بارہا ٹوٹا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






