زمیں پہ آج یہ حُوروں کا کیوں ہجوم ہُوا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiزمیں پہ آج یہ حُوروں کا کیوں ہجوم ہُوا
اور ان کے ساتھ فرشتوں کا کیوں ہجوم ہُوا
کسی بزرگ ولی کا جنازہ ہے شاید
وگرنہ صحن میں پریوں کا کیوں ہجوم ہُوا
ہے رسمِ زُلف کشائی یا غُسل میت کا
میں سوچتا ہوں کہ اربوں کا کیوں ہجوم ہُوا
یہ قتل گاہ نہیں ہے یہ ملک ہے میرا
خُدارا روز یہ لاشوں کا کیوں ہجوم ہُوا
اِسی کا رِزق جو کھا کر اِسی کو کاٹتے ہیں
یہ میرے ملک میں کُتّوں کا کیوں ہجوم ہُوا
یُوں اعتبار نہ اُٹھ جاۓ دین سے ہی کہیں
یہ دن بدن نۓ فرقوں کا کیوں ہجوم ہُوا
تِرا اِشارا ہی کافی تھا میرے مرنے کو
یہ قتل گاہ یہ نیزوں کا کیوں ہجوم ہُوا
کوئی بھی غیر تماشائیوں میں تھا ہی نہیں
جو میں تھا دار پہ اپنوں کا کیوں ہجوم ہُوا
حیات تھا تو کوئی پُوچھتا نہ تھا مجھ کو
یہ میری لاش پہ لوگوں کا کیوں ہجوم ہُوا
کسی درندے کی پھر سے نظر نہ پڑ جاۓ
کنارے جھیل کے بچوں کا کیوں ہجوم ہُوا
بڑا ہی میں تو گنہگار شخص تھا بــــــــاقرؔ
مری لحد پہ پرندوں کا کیوں ہجوم ہُوا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






