زندگی تو رواں رہتی ہے ۔۔۔ برسر ِامتحاں رہتی ہے
Poet: Ibn.E.Raza By: Ibn.E.Raza, islamabadزندگی تو رواں رہتی ہے
برسر ِامتحاں رہتی ہے
کون کہتا ہے کٹتی نہیں
زندگی کبھی رُکتی نہیں
دن نکلتا ہے شام ہوتی ہے
کب رات دن میں ڈھلتی نہیں
کسی بےنام منزل کی سمت
راہگزر لے جاتی ہے ہمیں
سوغات ٹوٹے رشتوں کی
جاتے ہوئے دے جاتی ہے ہمیں
کبھی موڑ ایسا بھی آتا ہے
کہ جی چاہتا ہے
زندگی یونہی ٹھہر جائے
یہ جو لمحہ ہے روبرو
بار بار لوٹ کر آئے
ایسا مگر ہو سکتا نہیں
دل کیوں یہ مان لیتا نہیں
زندگی تو رواں رہتی ہے
برسر ِامتحاں رہتی ہے
کون کہتا ہے کٹتی نہیں
زندگی کبھی رُکتی نہیں
تم نہ سوچو کہ نہ جی پاؤ گے
ہم نہ ہونگے تو کہاں جاؤ گے
کس سے کہو گے دل کی باتیں
کیسے کٹیں گی کالی راتیں
انہیں سوچوں کی آغوش میں جا کر
چپکے سے سو جاؤ گے
جب آنکھ کھلے گی دن میں تیری
نہ دل میں ہوگی یاد میری
خزاں کی رُت کو جانا ہوگا
بہار کو پھر سے آنا ہوگا
نئے گُلوں کی خوشبوؤں میں
نئی اُمنگوں آرزؤں میں
پت جھڑ کے دن کہاں یاد رہیں گے
انہیں رستوں پہ نئے لوگ ملیں گے
پرانے قصے ، پرانی باتیں
دور کہیں رہ جائیں گے
گئے دنوں کی بستی میں
کسی بھولے بھٹکے پنچھی کا
بکھرا ہوا نشیمن دیکھو گے
تو کچھ دیر کو شاید سوچو گے
کوئی کبھی تھا آباد یہاں
نہیں جسکا اب کوئی نام و نشاں
یہی سوچتے سوچتے چند لمحے
آگے کو بڑھ جاؤ گے
زندگی تو رواں رہتی ہے
برسر ِامتحاں رہتی ہے
کون کہتا ہے کٹتی نہیں
زندگی کبھی رُکتی نہیں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






