زیست اپنی سنوار لیتے ہیں
Poet: By: AB shahzad, Mailsiزیست اپنی سنوار لیتے ہیں
قرض جا کر ادھار لیتے ہیں
پیار کی پھر کریں گے ہم باتیں
چن حسیں کوئی یار لیتے ہیں
وقت کٹتا نہیں ہے بن تیرے
جیسے تیسے گزار لیتے ہیں
درد پھر بھی یہ کم نہیں ہوتا
رو تو زارو قطار لیتے ہیں
اس لیے دور ریتا ہوں ان سے
عشق لیل و نہار لیتے ہیں
ہم تجارت کریں گے پیار کی پغر
ڈھونڈ ماموب یار لیتے ہیں
جب ضرورت ہو انکی تب شہزاد
پیار سے ہم پکار لیتے ہیں
More Life Poetry






