سراپا بد گمانی تھے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہبِچھڑ جانا پڑا ہم کو لِکھے جو آسمانی تھے
جُدا کر کے ہمیں دیکھا مُقدّر پانی پانی تھے
تراشِیدہ صنم کُچھ دِل کے مندر میں چُھپائے ہیں
کہِیں پر کابُلی تھے بُت کہِیں پر اصفہانی تھے
ہوا بدلا نہِیں کرتی کہ جیسے تُم نے رُخ بدلا
پرائے ہو گئے؟ کل تک تُمہاری زِندگانی تھے
نجانے کِس طرح کی خُوش گُمانی ہم کو لاحق تھی
ہمیں جِن سے اُمِیدیں، لوگ وہ دُنیا کے فانی تھے
سبھی نے اپنے حِصّے کی کوئی آفت اُٹھائی ہے
بہُت سے آشنا چہرے زمِینی، کُچھ زمانی تھے
تسلُّط ایک مُورت کا تھا دِل کی راجدھانی پر
گھنیری نرم زُلفیں جس کی، لب بھی ارغوانی تھے
وہ کیا چہرے تھے ماضی کے دُھندُلکوں سے اُبھر آئے
ہم اُن کا جھوٹا قِصّہ، وہ مگر سچّی کہانی تھے
لِکھا تھا غین چہرے پر، سو غُربت کِس کو بھائی ہے؟
یقِیں کرتا کوئی کیا ہم سراپا بد گُمانی تھے
رشِید اپنی محبّت کا لہُو تُھوکا کِیے لیکِن
کِسی کے ہم زُباں ٹھہرے کسی کی بے زُبانی تھے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






