سراپا بد گمانی تھے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہبِچھڑ جانا پڑا ہم کو لِکھے جو آسمانی تھے
جُدا کر کے ہمیں دیکھا مُقدّر پانی پانی تھے
تراشِیدہ صنم کُچھ دِل کے مندر میں چُھپائے ہیں
کہِیں پر کابُلی تھے بُت کہِیں پر اصفہانی تھے
ہوا بدلا نہِیں کرتی کہ جیسے تُم نے رُخ بدلا
پرائے ہو گئے؟ کل تک تُمہاری زِندگانی تھے
نجانے کِس طرح کی خُوش گُمانی ہم کو لاحق تھی
ہمیں جِن سے اُمِیدیں، لوگ وہ دُنیا کے فانی تھے
سبھی نے اپنے حِصّے کی کوئی آفت اُٹھائی ہے
بہُت سے آشنا چہرے زمِینی، کُچھ زمانی تھے
تسلُّط ایک مُورت کا تھا دِل کی راجدھانی پر
گھنیری نرم زُلفیں جس کی، لب بھی ارغوانی تھے
وہ کیا چہرے تھے ماضی کے دُھندُلکوں سے اُبھر آئے
ہم اُن کا جھوٹا قِصّہ، وہ مگر سچّی کہانی تھے
لِکھا تھا غین چہرے پر، سو غُربت کِس کو بھائی ہے؟
یقِیں کرتا کوئی کیا ہم سراپا بد گُمانی تھے
رشِید اپنی محبّت کا لہُو تُھوکا کِیے لیکِن
کِسی کے ہم زُباں ٹھہرے کسی کی بے زُبانی تھے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






