سمجھ سے عاری تھا
Poet: سعدیہٓ اعجاز By: Sadia Ijaz Hussain, Lahore,University of Educationدل کے کسی خانے میں جلتا ہو گا
وہ دھواں ہے سو سُلگتا ہوگا
ہوگا منتظر کسی چِنگاری کا
ہوا مل جاۓ یہی سوچتا ہوگا
چراغ بُجھتے بُجھتے پھر سمنبھل گیا
دل دھڑکتے دھڑکتے پھر تھم گی
راکھ کر گئ دنیا کی نا آشنائی مجھے
یہ دل تھا سو عقل سے فارغ تھا
آگ لگنا چاہتی تو لگ بھی سکتی تھی
بجھتی ہوئ چنگاری سُلگ بھی سکتی تھی
آرزو کب وسائل کو دیکھا کرتی ہے ؟
جو دیکھ لے پھر وہ آرزو کیسی؟
سُر اپنی ہی آہ سناتے رہے رات بھر
اور غم پہلو میں بیٹھ کر دل پر غور کرتا رہا
آسماں سرخ تھا اسلیے جینا محال کر گیا
زمیں تیز چلی بہت تیز کہ چلنا محال کر گئ
قوت دل تھی اور وہ بھی زخمی زخمی
کلیجہ تھا وہ بھی ڈگمگاتا ہوا
کچھ دقتیں رہی اِس دل کمزور کو
کچھ راحتیں رہی اس دل پرسکون کو
سورج رات کی خاموشی میں مر گیا
رات سورج کی روشنی میں بے تاب رہی
یہ چل رہا تھا جو بھی مامعلہ کیا تھا؟
اپنی تو سمجھ سے ہی باہر تھا
حسین وادیاں درخشاں کہانیاں تھیں
وسیع پیمانے تھے مگر جام سے خالی تھے
کہیں ہوش تھا مگر کچھ یاد نہ تھا
کہیں محرومی نے سب کچھ عیاں کر دیا
کوئی کھیل تھ تماشا تھا یا کوئ چال جاری تھی
جو بھی تھا !سعدیہّ اپنی سمجھ سے عاری تھا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






