سمندر میں اترتا ہوں ،تو تنہائی ستاتی ہے
Poet: سید بدیع الرحمان By: سید بدیع الرحمان, Skarduسمندر میں اترتا ہوں ،تو تنہائی ستاتی ہے
اندھیروں میں بھٹکتا ہوں ،تو تنہائی ستاتی ہے
خموشی سے گزرتی ہیں یہ شامیں اور یہ راتیں
میں خود سے بات کرتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے
تمہاری یاد کے جگنو، اندھیروں میں چمکتے ہیں
مگر جب پاس آتا ہوں، تو تنہائی ستاتی ہے
کوئی راہی، کوئی ہمدم، نہ کوئی ہمسفر میرا
مسافت جب بڑھاتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے
ہر اک شے سے جدا ہوں، خود سے بھی خفا ہوں میں
خود کو آئینہ دکھاتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے
بدیع ،دل کے اندر شور ہے، پھر بھی خموشی ہے
میں لفظوں کو بناتا ہوں، تو تنہائی ستاتی ہے
بدیع، دل کے زخموں کو چھپاؤں کس طرح آخر؟
کہ قصے جب سناتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






