جس روز ترا وقت گزر جائے گا ظالم

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

جس روز ترا وقت گزر جائے گا ظالم
اس روز تو پچھتائے گا پچھتائے گا ظالم

اِس دیس کے دستور سے کھلواڑ تُو کر لے
پر رب کی پکڑ میں تو کبھی آئے گا ظالم

شداد کی جنت سے محل جتنے بنا لے
اک دن یہ سبھی خاک میں مل جائے گا ظالم

قدرت کے ترازو میں جو اعمال تلیں گے
لوٹا ہوا زر کام نہ کچھ آئے گا ظالم

پھر تیرے محافظ نہ بچا پائیں گے تجھ کو
یم لوک میں جب مُونھ کے بل جائے گا ظالم

تو گوشت غریبوں کا یہاں نوچ لے جتنا
تھوہَر ہی جہنم میں فقط کھائے گا ظالم

ہر پاپ ترا تو جو نہیں مانا زباں سے
ہر انگ ترا حشر میں بتلائے گا ظالم

اس وقت مظالم پہ تجھے ہو گی ندامت
جس وقت کوئی توبہ نہ کر پائے گا ظالم

Rate it:
Views: 335
10 Dec, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL