سچے جھوٹے آنکھوں نے کیا کیا خواب دیکھائے تھے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadسچے جھوٹے آنکھوں نے کیا کیا خواب دیکھائے تھے
چاہت کی تمنا لے کر ہم جب تیرے شہر آئے تھے
دیکھ کر اُلفت جانے کیوں، ہم نادان یہ بھول گئے
کہ کس چہرے نے چہرے پر کتنے چہرے سجائے تھے
تنہا بیٹھے جب محفل میں تب ہمیں احساس ہوا
جو چھوڑ گئے بےآسرا ہمیں وہ اپنے کب پرائے تھے
اِک موج کی مستی سے سارے ارمان ڈوب گئے
ساحل پہ ریت سے ہم نے جانے کتنے گھر بنائے تھے
چھوٹی سی اِک چوٹ نے ساجد دل کیسے توڑ دیا
ورنہ دل کے اندر ہم نے کیا کیا درد چھپائے تھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






