تیرے شہرسے گزریں تو نگاہ جھکا کر چلتے ہیں

Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabad

تیرے شہر سے گزریں تو نگاہ جھکا کر چلتے ہیں
تیرا نام اپنے نام سے ہم ملا کر چلتے ہیں

تیری طرح تیرے شہر کے لوگ عجیب ہیں
نرم و نازک ہاتھوں میں بھی پتھر اٹھا کر چلتے ہیں

ہم سے نہ پھر کہنا کیوں آجاتے ہو مرنے کو تم
تیرے شہر کے بھی لوگ تو دل دُکھا کر چلتے ہیں

اب تو نہیں ہے وہ وقت، جب روتے تھے کر کہ یاد
اب تو یادِ ماضی کی ہم، مرہم بنا کر چلتے ہیں

جب بھی گزرتے ہیں نیا اپنا انداز ہوتا ہیں
نئے اب زخم لے کر ہم پرانے چھپا کر چلتے ہیں

تیری نسبت کا ہم اتنا احترام کرتے ہیں
کہ خاک شہر کی ہم آنکھوں سے لگا کر چلتے ہیں

ساجد ہمارے بعد، ہم پہ الزام نہ آ جائے
اس لیے ہم خالی ہاتھ سب کو دیکھا کر چلتے ہیں

Rate it:
Views: 698
08 Sep, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL