سچ کہہ ہی دیا‘ آج مرے کان میں آ کر
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIسچ کہہ ہی دیا‘ آج مرے کان میں آ کر
دنیا کو سمجھنا ہے تو‘ خاموش رہا کر
منت کے چراغوں کو لبِ بام سجا کر
خود بیٹھ کے تنہائی میں اب رنگ بھرا کر
آسیب کچھ ایسا ہے مکیں اور مکاں پر
دل ڈوبنے لگتا ہے مرا جسم جلا کر
قطرہ کبھی دریا کے برابر بھی ہوا ہے؟
وہ مانگنے نکلے بھی تو کشکول اُٹھا کر
سچ پوچھ تو ساقی سے مراسم ہیں پرانے
اِک عمر گزاری ہے یہاں ہوش میں آ کر
دیوانہ جو کہتی ہے‘ تو کہتی رہے دنیا
جس کام کو کرنا ہو‘ وہی کام کیا کر
اب طائرِ بے پر کو ہے پرواز سے فرصت
دنیا کے بکھیڑوں سے کہیں دور ملا کر
وہ شخص ابھی اتنا بھی کمزور نہیں ہے
لوٹ آئے گا اِک روز در و بام گرا کر
اب جھوٹے سہاروں سے بہل جاتا ہےعامی
آنگن میں ترے نام کا اِک دیپ جلا کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






