کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

کبھی ملنے کبھی مجھ سے جدا ہونے کی جلدی ہے
محبت میں تجھے بھی کیا سے کیا ہونے کی جلدی ہے

تو میرے فیصلے کیوں لینا چاہے اپنے ہاتھوں میں
نہ جانے کیوں تجھے میرا خدا ہونے کی جلدی ہے

وہ تلوار اس لیے کھینچے کہ میں بڑھ کر اسے روکوں
ستمگر کو محبت آشنا ہونے کی جلدی ہے

میں چاہوں دیر تک اس میں رچے رہنا بسے رہنا
مگر بوئے محبت کو ہوا ہونے کی جلدی ہے

بچا کر کس طرح رکھوں میں تیرے لمس کا موسم
کہ میرے ہاتھ کو دستِ دُعا ہونے کی جلدی ہے

اُدھر ظالم کو تازہ پھول سے مطلب نہیں کوئی
ادھر دل کو ہتھیلی پر دھرا ہونے کی جلدی ہے

Rate it:
Views: 775
26 Jul, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL