سیاچن ایک خونی محاز
Poet: hasanpurki By: M.Hassan, Karachiسیاچن ایک خونی محاز ہے
جہاں پر ہمارے بہادر جانباز ہے
ایک ایک سپاہی پر لاکھوں کا خرچہ ہے
پھر بھی ہر روز اک نیا حادثہ ہے
ابھی تک بہت سوں نے اپنی جانیں کھوئیں
ککسی کا سہاگ اور کسی کا بیٹا کھویا
کسی کا بھائی اور کسی کا باپ کھویا
دونوں حکومتوں سے گزارش یہی ہے
بہت کھو چکے اب سفارش یہی ہے
کھلے زہن اور ٹھنڈے دل سے سوچو
دونوں طرف کے لیڈر سر جوڑ کے بیٹھو
نکالو کوئی حل اس خونیں محاز کا
یونہی کھو رہے ہو کیوں اپنے اپنے جوان
بہت سخت موسم ہے اور انسان بے چارا
کب تلک یوں رہے گا موسم کا مارا
ابھی تک تودے میں ہیں انکی جانیں پھنسی
نکالنے کی کوشش میں ہیں یہ بہادر سپاہی
سب سے لڑسکتے ہیں یہ جانباز سپاہی
مگر سخت موسم سے کب تک لڑیں گے سپاہی
سخت موسم کا شکار ہو رہے ہیں سپاہی
مگر افسوس اس کے پیچھے ہیں حکومتوں کی بے حسی
خدارا انسان بن کر سوچ اور جلد کوئی حل نکال
انڈیا پاکستان نومین لینڈ سے اپنی اپنی فوجیں نکال
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






