شاہین عمر ایسے بتائی میں نے
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn راحت وصل نہ پائی میں نے
کاٹی ہمیشہ تنہائی میں نے
جس کو پرکھا وہی نکلا فریب کار
یوں ہر جا منہ کی کھائی میں نے
مرنے سے پہلےہیں کفن میں لپٹے
حنا ہی کچھ ایسے رچائی میں نے
تھی زندگی سیدھی سادھی سی
خود کانٹوں سے الجھائی میں نے
کوس لیا قسمت کو مٹا لیا ہر غم
نہ دی تیرے ظلم کی دہائی میں نے
کوئی نہیں قابل سخن کہوں حال دل
خاموش راہ اس لیے اپنائی میں نے
تا زندگی رہیں گے ہونہی در بدر
قیافہ نہیں حقیقت سنائی میں نے
مر گیا ہے دل یاس میں ڈوب کر
ہر شوق ہر تمنا دفنائی میں نے
صحرا میں جیسے فریب نخلستان
شاہین عمر ایسے بتائی میں نے
More Sad Poetry






