شاہین یہ کیسی شناسائی ھے کہ میری جان پہ بن آئی ھے
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal , gjn اے دل تو کیوں مضطرب رہنے لگا ھے
تیری ہر دھڑکن پہ کس کا
قبضہ ھونے لگا ھے
سرد مزاجی کے بادل چھٹنے سے
لگے ہیں
اک تیرا نام کیا لیا ،کمال مجھ میں
ابھرنے لگے ہیں
جب سے تو دل کی بستی میں ہے
کائنات کی ہر شے مستی میں ہے
اوراق دل پہ جب سے تیرا نام
لکھا ہے
قلم بھی رواں ہونے لگا ہے
پھر بھی یہ کیسا کرب ہے
کتنا پر درد مگر سچ ہے،
اس بے بسی کا اپنا ہی مزا ہے
دل سے صدائیں آتیں ہیں
لب خاموش مگر
آنکھیں پانی ہو جاتی ہیں
کیا کروں کیا نہ کروں
اب چلوں یا رکوں
روؤں یا ہنسوں
جیوں یا مروں
حالت گومگو
سب کس سے کہوں
کاش مجھے لے وہ سمجھ
جو ہے بےخبر
کاش میرے دل کی رکھےکچھ تو خبر
میری زندگی بھی عجیب کتاب ہے
تو اس کا پہلا مگر دلچسپ باب ہے
تیرے ہی خیالوں میں کھونے لگی ہوں
بات بات پہ سلگنے لگی ہوں،
سسکنے،رونے لگی ہوں
خود ہی روٹھنے،ماننے لگی ہوں
اب تو ہی بتا اے رہبر شاہین
یہ کیسی شناسائی ہے
کہ میری جان پہ بن آئی ہے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






