شور اک اٹھ رہا ہے اندر سے

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

شور اک اٹھ رہا ہے اندر سے
کون یہ آ گیا ہے اندر سے

تیری فرقت اِک آگ ہے جاناں
جس نے جھلسا دیا ہے اندر سے

جستجو تیری گل گئی ہو گی
اس قدر جل چکا ہے اندر سے

مجھ میں اب چیختا نہیں کوئی
بس دھواں اٹھ رھا ہے اندر سے

اب مجھے سوجھتا نہیں کچھ بھی
اک خلا ہو گیا ہے اندر سے

لوٹ کر آ ہی جا کبھی خود میں
راستہ بھی کھلا ہے اندر سے

Rate it:
Views: 512
15 Apr, 2013
More Sad Poetry