شکوہ شکا یت

Poet: Nuzzar Naseem By: Nuzzar Naseem, Karachi

کتنا بھی جوڑ جوڑ کر رکھوں میں
کانچ کا دل ہے میرا بار بار ٹوٹ جاتا ہے

سایہ غم کا مقدر ہے شا ید میرا
تعویز گلے میں پڑا جل جلا جاتا ہے

تعریف کروں تو میں بس دل کی کروں
اس قدر ستم پہ بھی جینا چاہتا ہے

اس قدر لائق سمجھتا ہے جو زمانہ مجھے
دل کا یہ حال ،دل،دکھانا چاہتا ہے

کسی خاموش شجر کی طرح،کھڑآ جلتا رہا
یہ تیری یاد سے شاید جلنا چاہتا ہے

مایوس ہو کے کئ بار لوٹ جاتا ہے بے مراد
تیری عقل کو تآّبّع فرمان عشق کر نہ سکا سچ میرا

اب تو بس گلا ہے تو تم سے ہے
اس قدر تم سے عشق ہوا کیوں ہے؟

اور سوالات کئی ہیں دل کے
جانے کیوں اشک گرا، لفظ ادا کر نہ سکا

خاموشیوں کی جنگ میں جیتے تم ہو
ہر بازی تم سے ہارا دل ہے

Rate it:
Views: 759
01 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL