عذر کیا ہے کہ ہم مر بھی جائیں
Poet: عبدالمعز By: Ab Moiz, Faisalabadعذر کیا ہے کہ ہم مر بھی جائیں
تیری خلقت سے کچھ لوگ کم ہو جائیں
دل جو ٹوٹے تو تجھ کو کیا فرق پڑتا ہے
تو حرام کیوں کہ سلسلہ نبص روک جائیں
شاید یقیناً شہرک کے قریب تو ہوگا مگر
یہ بتا دیکھنا ہو تجھے تو کہاں جائیں
کبھی آو اتر کے عرش سے
سر فرش دسترخوان سجائیں
یا ہم کو بتا دے حال کوئی ایسا
درد ملے اور ہم بے ضرر سہتے چلے جائیں
تو سنتا ہے سسکیاں دیکھتا ہے تسمیں
تو یوں کر کہ' یوں کرنا بھول جائیں
یہ دیوانے جو آوارہ سے پھرتے ہیں
کچھ کرم دکھا اور یہ سنور جائیں
ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں سکون زمانے بھر کی گلیوں میں
ایسا لطف دے کہ تیرے در کے سوا پھر کہیں نا جائیں
ہاتھ اٹھاوں تو گھنٹوں سوچتا ہوں کیسے مانگوں
یا رب!! میں نہیں مانگتا وہ خود ہی مل جائیں
الہی گنہگار ہوں 'ناقص ہوں' گلا بھی کرتا ہوں شکوہ بھی
پر رفیق سمجھ کے تجھے درد نا سنائیں تو کدھر جائیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






