یہ لاج یہ پردہ تو دکھانے کو ملا ہے
Poet: Naimat waseem sajid By: Naimat, rajanpurﯾﮧ ﻻﺝ ﯾﮧ ﭘﺮﺩﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﻓﻦ ﺑﺮﺍﮰ ﺭﯾﺖ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺍﻥ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﻧﮧ ﺁﺉی
ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺯﺭﺩﺍﺭ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﺍﺭﯼ ﻭﺍﺳﻄﮯ
ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺑﯿﭽﺎﺭﮔﯿﺊ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﺭﮨﺎ
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻼ ﮨﮯ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺗﻮ ﺷﺎﮐﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ
ﻧﺎﺩﺍﺭ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﻮﺟﮫ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﮭﻼ ﮐﮭﻼ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﺎ ﮐﭽﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼﮨﮯ
ﺑﺲ ﺍﺩﮪ ﻧﻨﮕﺎ ﺑﭽﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻧﻌﻤﺖ
ﺧﻮﺵ ﮬﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻼ ﮨﮯ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






