عشق میں نام پیدا کرنے پر
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالعشق میں نام پیدا کرنے پر
ٹھہرے کافر یہ کر گزرنے پر
بحر غم کے کنارے ڈوب گئے
لاش تک نہ ملی اُبھرنے پر
تھی مسیحائی بے نیاز اُن کی
زخم بھرتے بھرا نہ بھرنے پر
ناگہانی میں مار دیجے مجھے
رحم آتا ہے اپنے مرنے پر
سٹرتا رہنے دو گورِ فرصت میں
جان جاتی ہے کام کرنے پر
چشمِ مصروف نیند لائی ہے
دفترِ خواب ِ شوق چرنے پر
وصلِ تعطیل ہے کوئے جاناں
اک زمانہ گیا ہیں دَھرنے پر
جالے پڑنے لگے بدن پہ جنیدؔ
وہ ابھی نرم ہیں سنورنے پر
جان تیری گلی کے پاگل کو
ایک پل نہ لگا سُدھرنے پر
تیرا خرموشِ غم ہوا ہلکان
کاٹنے پر بدن کُترنے پر
سبھی مصروف ہیں مرے پیچھے
بس لگائی بجھائی کرنے پر
اے شبِ ہجر ہڈ حرام ہے تُو
اِک صدی ہو گئی بسرنے پر
لگ گئی عمر دِل پہ چڑھتے جنیدؔ
نا ہوئی خرچ آن اُترنے پر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






