پہلے تو بولتا نہیں ہوں میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالپہلے تو بولتا نہیں ہوں میں
اور پھر سوچتا نہیں ہوں میں
جسے سُنتے ہی کان بہہ جائیں
زہر وہ گھولتا نہیں ہوں میں
کوئی اخلاق سے جو پیش آئے
طنز سے چُوکتا نہیں ہوں میں
تُو نے جس در کی بحث چھیڑی ہے
اب وہاں تُھوکتا نہیں ہوں میں
کچھ تو دیوار کی خطا ہو گی
سر یُونہی پھوڑتا نہیں ہوں میں
دردِ دل کے بے درد قصوں میں
غم یہ تھا چیختا نہیں ہوں میں
جس نے کچھ بھی بکا ہو میرے خلاف
کیوں وہ منہ توڑتا نہیں ہوں میں
جانے کیا کچھ گنوا دیا میں نے
عشق میں جوڑتا نہیں ہوں میں
جب کرم کی نہیں دلاتے امید
لغزشیں چھوڑتا نہیں ہوں میں
سخت نالاں ہے ہر حسیں پھر بھی
دل لگی چھوڑتا نہیں ہوں میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






