پہلے تو بولتا نہیں ہوں میں

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

پہلے تو بولتا نہیں ہوں میں
اور پھر سوچتا نہیں ہوں میں

جسے سُنتے ہی کان بہہ جائیں
زہر وہ گھولتا نہیں ہوں میں

کوئی اخلاق سے جو پیش آئے
طنز سے چُوکتا نہیں ہوں میں

تُو نے جس در کی بحث چھیڑی ہے
اب وہاں تُھوکتا نہیں ہوں میں

کچھ تو دیوار کی خطا ہو گی
سر یُونہی پھوڑتا نہیں ہوں میں

دردِ دل کے بے درد قصوں میں
غم یہ تھا چیختا نہیں ہوں میں

جس نے کچھ بھی بکا ہو میرے خلاف
کیوں وہ منہ توڑتا نہیں ہوں میں

جانے کیا کچھ گنوا دیا میں نے
عشق میں جوڑتا نہیں ہوں میں

جب کرم کی نہیں دلاتے امید
لغزشیں چھوڑتا نہیں ہوں میں

سخت نالاں ہے ہر حسیں پھر بھی
دل لگی چھوڑتا نہیں ہوں میں
 

Rate it:
Views: 704
20 Dec, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL