عنوان ہوگئے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, DUBAI-UAEیہ سوچ سوچ کر ہی پریشان ہوگئے
کیونکر رقیب ہم پہ میربان ہوگئے
جس جس نے راہ عشق میں کانٹے بچھائے تھے
منزل پہ ہم کو دیکھ کر حیران ہوگئے
ماضی کی تلخیوں کا ذکر چھیڑ کے وہ خود
اپنے ہی ظلم سن کے پشیمان ہوگئے
نظریں چرا رہے تھے خجالت سے شرمسار
غلطی سے آج وہ میرے مہمان ہوگئے
میرا وجود اب بھی انہیں نا پسند ہے
سچ بول کے وہ خود ہی پریشان ہوگئے
ایماء پہ جنکی ہم کو ستایا گیا یہاں
وہ آج اپنے جبر پر نادان ہوگئے
سوچا تھا جنکا نام بھی لب پر نہ لاؤنگا
وہ بے وفاء ہی غزل کا عنوان ہوگئے
پھر سے قدم بڑھے ہیں اسی راہ کی طرف
درپیش پھر ہمیں وہ ہی سامان ہوگئے
نفرت ہی تھی اگر تو اشہر چھوڑ کر وہ کیوں
رو رو کے تیرے غم میں تھے ہلکان ہوگئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






