عورت
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiکہنے کو تو ہر جگہ عزت کی علامت ہے عورت
کہیں منی ہے کہیں شیلا کہیں قیامت ہے عورت
جب تک جی حضوری کرئے تو وفا شعار ہیں کہتے
سچ بول دے زمانے میں تو قابل ملامت ہے عورت
فائدہ دیکھیں جو اپنا مرد تو ضرور دیتے ہیں آزادی
میرے معاشرے میں آج بھی بے اوقات ہے عورت
عورت کا آج بھی کوئی گھر نہیں ہے یہاں تو کیوں
سو نپی جاتی ہے ایسے جیسے حیرات ہے عورت
کاش کہ کنولؔ عیاں بات ہو اس مردوں کے جہاں میں
پھول دنیا کے گلشن کا حسین سو غات ہے عورت
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






