عُہدے اسیری سے رہائی چاہتا ہوں
Poet: نعمتؔ اداس تہیبو By: Naimat Udaas Thebo, Tando Allahyarعُہدے اسیری سے رہائی چاہتا ہوں
فراقِ یار سے اب جدائی چاہتا ہوں
مینے تو بس خُدا کو مانگا ہے
کس نے کہا خُدائی چاہتا ہوں
ہُجوم سے وحشت ہے مجھکو
میں تو بس تنہائی چاہتا ہوں
رفتہ رفتہ موت سراھانے جم رہی ہے
اور میں بہی تو ایساہی چاہتا ہوں
روشنی سے اجل ہے مجھکو یاروں
میں صرف اور صرف سیاہی چاہتا ہوں
کتنا عجیب آدمی ہوں میں نعمتؔ
بس اپنی ہی تباہی چاہتا ہوں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed







