غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں
Poet: صبا اکبرآبادی By: ہارون, Multanغالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں
تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں
آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے
اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں
آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں
ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں
تم تو بے مثل ہو توحید محبت کی قسم
تم سا کیا ہوگا جہاں میں کوئی مجھ سا بھی نہیں
حشر کی بھیڑ میں ایک ایک کا منہ تکتا ہوں
اس بھری بزم میں اک جاننے والا بھی نہیں
حسن نے دعوت نظارہ ہر اک رنگ سے دی
عشق نے آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں
ایک تم ہو کہ تمناؤں کے دشمن ہی رہے
ایک میں ہوں مجھے احساس تمنا بھی نہیں
جزو دل بن کے سماتی ہے محبت دل میں
یہ وہ کانٹا ہے کہ ہے اور کھٹکتا بھی نہیں
یاد آتی ہے صباؔ بے وطنوں کی کس کو
مجھ کو یاران وطن سے کوئی شکوہ بھی نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






