چلا چل مہلت آرام کیا ہے

Poet: صبا اکبرآبادی By: عابد, Islamabad

چلا چل مہلت آرام کیا ہے
مسافر اور تیرا کام کیا ہے

ہمارا واسطہ ہے ان کے ڈر سے
ہمیں سارے جہاں سے کام کیا ہے

تمہارا حسن تو ہے غیر فانی
ہمارے عشق کا انجام کیا ہے

خدا کا نام لینا چاہتا ہوں
مگر میرے خدا کا نام کیا ہے

سواد شام مے خانہ سلامت
بیاض جامۂ احرام کیا ہے

تم اپنے آئینے سے پوچھ لیتے
ہمارے عشق پر الزام کیا ہے

ہمیں خود راستہ چلنا نہ آیا
فراز و پست پر الزام کیا ہے

سنو اے آشیاں کے خشک تنکو
بہار باغ کا پیغام کیا ہے

خرد کے مسئلے حل کرنے والو
تمہیں میرے جنوں سے کام کیا ہے

خبر خود موج طوفاں کو نہیں ہے
سفینے کا مرے انجام کیا ہے

بہ راہ راست ان کو مانگتا ہوں
تکلف کا دعا میں کام کیا ہے

حد پرواز جب سمٹی تو سمجھے
قفس کیا آشیاں کیا دام کیا ہے

صباؔ ترک محبت کر رہے ہو
محبت سے ضروری کام کیا ہے

Rate it:
Views: 584
15 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL