غربت نے چھینے سینگار کیسے کیسے
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinغربت نے چھینے سینگار کیسے کیسے
اور پھر دکھائے مجھے دار کیسے کیسے
ایک تیری خاطر میرے یار میں نے
دل پے کھائے ہیں وار کیسے کیسے
راہِ الفت میں کوئی مجھ سے پوچھے
میں لُٹا ہوں ہر بار کیسے کیسے
کیسے بتاؤں کہ میری غربت نے
گنوائے ہیں مجھ سے یار کیسے کیسے
آیا جب بھی تیسرا شخص بیچ میں
مت پوچھ پھر ٹوٹے اعتبار کیسے کیسے
مشکل وقت ہی تو بتاتا ہے
گرتے ہیں یہاں معیار کیسے کیسے
مجبوریاں چھین لیتی ہیں سر کی چادر
کُمہلاتے ہیں جسم سرِ بازار کیسے کیسے
یہ شکوہِ یادِ یاراں ہے کے میں
شب بھر بِٹھاتا ہوں مئیخوار کیسے کیسے
تجھے کیا خبر احسن وہ بچھڑا ہوا شخص
چھوڑ گیا مجھ میں آثار کیسے کیسے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






