غم بھی کتنا عجیب ہوتا ہے
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratغم بھی کتنا عجیب ہوتا ہے
دینے والا بھی اکثر رقیب ہوتا ہے
لگ گیا زندگی کو زَنگِ عشق
زَنگ بھی کتنا بے دید ہوتا ہے
وجود سے نکلتا نہیں جو کسی جا
وہ شخص کتنا عجیب ہوتا ہے
جو پَا کر اَز دَست دَادن مخبت
بَدشانسی وہ بد نصیب ہوتا ہے
تم خوش ہو تو خوش ہی رہو خدا رہ
عشقِ غم بھی بڑا بے غم ہوتا ہے
اب میری تصویریں نہیں تجھے پَذِیرَفته شد
بَشتر آوارہ پنچھی بی خانما ہوتا ہے
تم لوٹو بھی تو اب قبول نہیں ہو مجھے
بے ایمان شخص بے اعتبارہ ہوتا ہے
جسے عادت ہو محبت کی آڑ میں وقت گزاری کی
بے ذوق رقِیب آوارہ ہوتا ہوتا ہے
تجھے مانگا خدا سے رات کے اس پہر نفیس
جب عطاوں کا فلک سے نزول ہوتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






