بس زندہ لاش ہو میں
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratتو منزل نہیں تھی جس کا سفر کیا
تو عبادت نہیں تھی جسے جابجا کیا
تو خدا نہیں تھا جسکی پرستش کی
تو اک وہم تھا جس سے محبت کی
تو اک گمان تھا جو پال لیا
تو اک روگ تھا جو دل کو لگا لیا
تو حاکم وقت نہیں تھا جو خود کو خدا سمجھا
میں اتنا بھی مشکل نہیں تھا جسے تو نہ سمجھا
تو دانش نہیں بس فریبی کا جال تھا
میں اتنا پاگل نہیں تھا بس مجھ میں ایمان تھا
تو وقت کو مٹھی میں لے کرچل دیا
روح نکل گئی تو سفر سے پلٹ دیا
تو کمرے میں پرانی تصویر کی مانند
مجھے جکڑ لیاہے ذندان کی زنجیر کی مانند
تو نے توڑ دیا سچ ہے کہ میں ٹوٹ گیا ہوں
میں اک آنسو تھا جو تیری چشم سے پھوٹ گیا ہوں
تو بے وفا تھا تجھ سے وفا کی امید کیا
عشق ہے بس اور تجھ سے میرا تعلق ہی کیا
تونے گرا دی سبھی دیواریں میرے دل کی
تنہاہ رہ گیا ہوں حالت بوجھل سی ہے دل کی
تو نے سمجھا کہ تیرے بعد مر جاوں گا نفیس میں
دیکھو مرا تو نہیں بس ذندہ لاش ہوں میں
بس ذندہ لاش ہو میں، بس ذندہ لاش ہوں میں !!!
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






