فُرصَت مِلے بھی تو، اب بات نہیں کرنی،
Poet: Waqas Khalid shamas By: Waqas khalid shamas, Rawalpindiفُرصَت مِلے بھی تو، اب بات نہیں کرنی،
یَک طَرَفہ مُحَبّت کی، اب خَیرات نہیں کرنی۔
تُم چاہو تو، اب یہ اَذِیَّت خَتْم ہی سَمَجھو،
تیرے اِنتِظار میں، اب کوئی رات نہیں کرنی۔
سارے جَھگڑے ہی، یہ میری وَجہ سے تھے،
یہ رَسمِ چاہت بھی، تیرے ساتھ نہیں کرنی۔
اب کی بار تَوبَہ ، پھر کبھی بُھول کر بھی،
دِل لگانے کی، کوئی بھی وَاردات نہیں کرنی۔
چاند تاروں کو توڑنے کی باتیں کیا کرتا تھا،
خوابوں میں بھی خَراب، اب کائِنات نہیں کرنی۔
یَقیناً میں مِٹا ہی دوں گا، سب دِل و دِماغ سے،
زِندگی میں مَزید پیدا، کوئی مُشکِلات نہیں کرنی۔
نہ کوئی شِکوہ رہے گا، نہ کوئی سوال باقی،
مَحفِلوں میں تیرے نام کی سَماعت نہیں کرنی۔
میں نے بَخش دِیا، تُو بھی بَخش دے سَب،
قِیامت میں بھی، تُجھ سے مُلاقات نہیں کرنی۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






