خیالِ سید محسن نقوی شہید
Poet: سید سلمان حیدر نقوی By: Salman Naqvi, Lahoreگُم سا گیا وہ شخص جس کا چرچا تھا کبھی
خاموشیوں میں ڈھل گیا، جو بولتا تھا کبھی
شاید وہ ڈھونڈتا تھا کسی حرفِ وفا کو
چہرے بڑے تدبر سے جو پڑھتا تھا کبھی
صحرا کی طرح دیر تلک پیاسا رہا وہ
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا کبھی
اے تیز ہوا! کچھ تو خبر دے اس کے جنوں کی
تنہا ہی سفرِ شوق پہ نکلا تھا کبھی
اب آخری صفحوں میں کہیں نام ہے اس کا
احباب کی فہرست میں اوّل تھا کبھی
ہاتھوں میں لیے پھرتا ہے چھپا کر کوئی زخم
شیشے کے کھلونوں سے جو بہلتا تھا کبھی
پلٹ پلٹ کے اسے دیکھتی ہیں اب بھی یہ آنکھیں
کچھ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا کبھی
اب اس نے بھی دنیا کے سلیقے ہیں سمیٹے
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا کبھی
ہر ذہن میں اک نقشِ وفا چھوڑ گیا ہے
کہنے کو بڑے شہر میں تنہا تھا کبھی
پہچان سے میری بھی وہ اب منکر ہوا ہے
سلمانؔ جو خط خون سے لکھتا تھا کبھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






