قصور کے غمزدہ بچوں کے نام
Poet: اعجاز احمد لودھی By: ابن نیاز, Islamabadتم بے قصور ہو
معصومیت سے چْور ہو
ابھی تو کھیلنے کے دن تھے
ابھی تو پالنے کے دن تھے
کہاں پھنس گئے تم
ان درندوں کے چنگل میں
کیسے مان گئے تم
ان کی چکنی چپڑی باتوں کو۔۔
کیا فانٹا کی اک ٹافی کافی تھی
یا پھر دس روپے جیب خرچ دیا تھا؟
لیکن میرے بچو!
جو سچ مانو تو
قصور ہر گز نہیں تمھارا۔۔
تمھیں کیا معلوم زندگی کیا ہے؟
تمھیں کیا معلوم
کھیل کھیل میں کون کیا کھیلتا ہے؟
تم نہیں جانتے۔۔
کہ یہ درندے شہر کے
بڑے چاپلوس ہوتے ہیں
تمھیں رجھائیں گے
تمھیں سمجھائیں گے
تمھارے بدن کو دھیرے دھیرے
اپنے منحوس ہاتھوں سے سہلائیں گے۔
کاش کہ تمھارے پاپا
اور تمھاری ممی بھی
یہ خیال بھی رکھتے تمھارا۔۔
کہ کیوں تم کھوئے کھوئے رہتے تھے۔
ایک دم سے کیوں لالچ نے آ گھیرا تھا۔۔
کیوں دل نہیں لگتا تھا تب تمھارا
گھر کے کاموں میں
نہ سکول کے کاموں میں۔
کیوں وقت بے وقت باہر نکلتے تھے۔۔
کیوں چھپ چھپ کر تم روتے تھے۔
کاش تمھاری ممی
کھانے پینے میں
اور کپڑوں کی خوبصورتی میں
تمھیں نہ ڈھونڈتیں۔۔
تمھیں کچھ سکھا دیتیں
قرآن کا علم بھی
اور سنتِ رسول ? کیا ہے؟
یہ بھی بتا دیتیں۔
کون ساتھی ہے تمھارا اور کون ابنْ الوقت۔۔۔
یہ تربیت بھی لازمی تھی۔
تمھارے پاپا کو چاہیے تھا
بتاتے تم کو
زندگی کی اونچ نیچ۔۔
محبت کیا ہے، ہوس کیا ہے؟
پاتال میں کیسے۔۔
یہ سطوت کیا ہے؟
کوئی چھوئے جو تیرے نازک بدن کو
تو تم جان لو،
تمھیں معلوم ہو۔۔
محبت میں یہ لمس
یا پھر ہوس کا مارا۔۔
مگر افسوس سے کہوں گا!
ان کو خود سے نہیں فرصت
اور ان میں نہیں ہے اتنی جرا 191ت۔
اب جو پھیلا ہے زمانے میں
یہ زہرِ قاتلانہ
سن کر ، پڑھ کر
ہر فرد ہوا ہے دیوانہ۔۔
افسوس کے اظہار سے
دے مارا ہے لفظوں کا تازیانہ۔۔
مگر افسوس ہے ، صد افسوس ہے۔۔
میڈیا ہمارا خاموش ہے۔
کہنے کو تو منصفوں نے
حق کا اعلان کیا ہے
سچ بات کو ماننے کا
انصاف کو پھیلانے کا
بھرپور اعلان کیا ہے۔۔
مگر یہ کیا؟
سردار ہمارے شامل ہیں
ان کاموں کے ماہر ہیں
جرمِ سیاہ کو گورا سمجھیں
اور بکھری کالک کو بس نقطہ بولیں۔۔
پھر یہ کیسی ہے منصفی۔۔
ثبوت بھی ہیںِ گواہ بھی ہیں
اور سب کے سب جانکاہ بھی ہیں۔۔۔
کہوں گا تو بس یہی کہ۔۔
کہیں ثابت نہ ہو جائے اقبال کی یہ بات
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔۔۔
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






