قلم توڑ دیتی ہوں

Poet: Nazia Haidar By: Binte Shafi Haidar, Karachi

تم آئے میں پهر سے جی گئی
جامِ اُلفت کا پورا میکدہ پی گئی
مدہوشی بڑھی تو قلم اُٹھایا
مد مست بس لکھتی ہی گئی
لکھ ڈالاسب کچھ جو دل میں تھا
آنکھیں مُوندے کہتی ہی رہی
پر تم جو کہہ دیا جاناں
تمہیں کچھ خاص شغف ہی نہیں
تو لو جاناں
یہ میکدہ میں چھوڑ دیتی ہوں
آج پھر سے قلم توڑ دیتی ہوں

Rate it:
Views: 532
11 Jul, 2016
More Sad Poetry