لب پہ شکوہ رہا بھی ہے کہ نہیں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکواللب پہ شکوہ رہا بھی ہے کہ نہیں
جانے اب مدعا بھی ہے کہ نہیں
جاگتی آنکھ سے جو دیکھا تھا
خواب وہ سچ ہوا بھی ہے کہ نہیں
بعد فُرقت خبر تو لی ہوتی
وہ بچھڑ کر بسا بھی ہے کہ نہیں
روز رستے سے پوچھتا ہوں کہ وہ
اُلٹے قدموں چلا بھی ہے کہ نہیں
کب سے جو قید ہے قفس میں ترے
وہ پرندہ اُڑا بھی ہے کہ نہیں
ہم جو ہیں خُود کو مار بیٹھے ہیں اِس کی کوئی سزا بھی ہے کہ نہیں
تُو جو اتنا ہے بدگماں خُود سے
خُود سے پل بھر جُدا بھی ہے کہ نہیں
تُو سپر تان دیکھ لیتے ہیں
مرنے کو دم بچا بھی ہے کہ نہیں
اِک زلیخا نے مجھ سے پُوچھ لیا
یُوسف اب تک بِکا بھی ہے کہ نہیں
جس طرح کا مزاج ہے تیرا
کوئی خوش رہ سکا بھی ہے کہ نہیں
ایک مدّت سے سوگ میں جِس کے
خون ہوں، وہ مرا بھی ہے کہ نہیں
عمر بھر کی گزر بسر کے لیے
سر میں سودا پڑا بھی ہے کہ نہیں
نوچ پھینکیں دعائیں لب پر سے
پڑ گیا شک خدا بھی ہے کہ نہیں
تو جو رکھّے ہے آسماں سے اُمید
کچھ وہاں سے مِلا بھی ہے کہ نہیں
دل مرے دِل ترے مکاں اندر
کوئی دائم رہا بھی ہے کہ نہیں
ٹوٹا جس طور آئینہ ءِ ذات
عکسِ جاناں بچا بھی ہے کہ نہیں
لکھتے دم میرِ داستاں تُو نے
جز الم کچھ لکھا بھی ہے کہ نہیں
اے گلی، تجھ میں خوار ہوتے وقت
گرنے والا اُٹھا بھی ہے کہ نہیں
جانے کس اور چل پڑا ہوں میں
اُس طرف راستہ بھی ہے کہ نہیں
آج پھر سے جسے بُھلانا ہے
یاد اُس کو کِیا بھی ہے کہ نہیں
تیری اُمید کا جنازہ جنیدؔ
کبھی تُجھ سے اُٹھا بھی ہے کہ نہیں
جنید عطاری
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






