لفظ
Poet: ندیم مراد By: nadeem murad, umtataلفظ رسوا نہ کریں گے تو کریں گے پھر کیا
کچھ نہ بولو تو کریں گے گمنام
اور بولو تو کریں گے بدنام
معتبر بھی نہیں جو ان کا سہارا لیتے
اور اتنے ہیں کہ رہتا ہے ہمیشہ ابہام
جو بھی رکھتا ہے زبان، اصل میں لفظوں کا غلام
اور کروڑوں لب و لہجے میں بدل کر انداز
لفظ دیتے ہیں خیالوں کی غلامی کو دوام
داستاں دل کی لکھیں تو کیسے
وقت کو روک سکھیں تو کیسے
کہ کچھ اتنا مُتلوّن ہے طریق الفاظ
وقت تھوڑا سا بدل جاتا ہے
اور یہ پیرہنِ مطلب و آہنگ بدل دیتے ہیں
لفظ خود ہرمتِ الفاظ کو بخشیں الزام
لفظ ہی مرتکبِ جرم سخن
لفظ ہی سادہ دلوں کے دشمن
لفظ ہی ماتمِ طرزِ تحریر
لفظ ہی معرکہء شعلہ بیانِ تقریر
لفظ ہی جستجوئے منصب و عہدہ و خطاب
لفظ ہی سچے رجالوں کے لئے یوم حساب
لفظ بے ربط خیالوں کا مقدس احرام
اور بیباکیء جزبات نے جھیلے آلام
لفظ بے روح سے مردہ اجسام
اور مل جائیں تو تخلیق کریں
روز نئے طرزِ کلام
ماتم لفظ کرو یا نہ کرو
بَین ہر دور پہ کرنا ہوگا
کیوںکہ گونگوں کے بدلتے ایّام
بولنے والوں کو کرتے ہی رہے ہیں بدنام۔
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






