ماضی یاد آتا ہے اسے اب ماضی میں جانا ہے
Poet: ارشد ارشی By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiوہ ایک سادہ بڑا مجذوب سا شخص
لوگوں سے گفتگو کا سلیقہ جانتا تھا
بہت ہنسنے ہنسانے والا وہ زندہ دل انسان
زخم دل میں لیئے ہنر مسکرانے کا جانتا تھا
اب محسوس ہوتا تھا بہت ٹوٹا ہوا ہو جیسے
پیار محبت کی باتوں سے وہ بہت اکتایا ہوا تھا
بہت قسمیں بہت وعدےاس نے ٹوٹتے دیکھے
بس اب خواہشوں کی لاشوں کو دفنانا باقی تھا
اسے مارا تھا انجان منزلوں کے راستوں نے
وہ بھکاری جو اس شہر میں بے حال پھرتا تھا
ہاتھ میں کاسا لیئے محبت کا اس شہر میں
اس بے وفا شہرمیں وہ وفا تلاش کرتا تھا
کسی نے نفرت کی تو وہی سچا لگا اس کو
کسی نے پیار سے بولا تو پھر آنکھ بھر آئی
کیوں ہوتا کوئی غم میں پریشاں اس کے ساتھ
اس کی قسمت میں ہی لکھی تھی جب رسوائی
سخن احباب میں سب پر بڑا ناز تھا اس کو
جہاں وہ ہر بات اپنی ہمیشہ کھل کر کرتا تھا
جب بولتا تھا تو دلیلوں اور حوالوں سے
سیاہ رات کو وہ پھر روشن سحر کرتا تھا
وہ اسی شہرکا اب اک تنہا مسافر ہے
جہاں فقط اب چند ضروری کام ہیں اس کو
جن کے ختم ہوتے ہی اسے لوٹ جانا ہے
منزل کیا ہے اب بھی نہیں معلوم ہے اس کو
ماں کی یاد یں اسے اکثر رلاتی تھیں
جسے اس شہر میں آکراس نے کھودیا تھا
وہ اکثر اپنےپرانے گھرکے قصے سنا کر
انھی قصوں میں اسے تاج محل بتاتا تھا
شائید اسے اپنے پرانے گھر میں جانا ہو
جسے وہ جوانی میں چھوڑ آیا تھا
جو اب ایک ویران کھنڈر بن چکا ہوگا
ایک زنگ آلود تالا اس میں لگا ہوگا
جہاں بچپن میں خواہشوں کو امانتن دفن کیا تھا
اب اس شہر کی تلخ یادوں کے جنازے کو
اپنے کاندھوں پر اٹھانا ہے وہیں پر دفن کرنا ہے
ماضی یاد آتا ہے اسے اب ماضی میں جانا ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






