ماں پیاری ماں - تین برس جدائی کے۔۔۔۔۔۔ درد و غم
Poet: Muhammed Waseem Naeem, Dhahran -Saudi Arabia By: Muhammad Waseem Naeem, Karachiاے ماں تیرے بنا سوُنا ھے یہ جہاں
توُ نہیں تو ہر سوغموں کی ہیں اندھیریاں
خدا نے کہا موسیؑ سے بن ماں دھیان کرنا زرا
نبی ﷺ جی کا فرمان کہ باپ سے ذیادہ تیراحق ہے ماں
کہا جوھر نے، بن ماں کے گھر لگتا ہے قبرستان
میں کہتا ھوں، گھر کیا سارا جہاں لگتا ہے بے نماں
تیری گود سے، مدرسے سے، کالج سے بڑھی میری توانایاں
ہر سو، ہردم، میری ہی بہتری کے لیے رہی تیری قربانیاں
رہی عمر بھر سایہ فگن تیری بے لوث مہربانیاں
نہیں نعم البدل تیرا کہیں بھی اے ماں
کچھ بھی تو اچھا نہیں لگتا بن تیرے اے میری ماں
کہ زندگانی کا ہر پہلو تھا تجھ سے باغ و بہاراں
مانند شجر کےھم پہ تیرا سایہ رہا اور سہتی رھی تکلیفوں کو
کہ ہر پل، ہر کڑی دھوپ میں ھمارے لیے رہی تو سائیباں
تیرا گلاب چہرا، جس میں پوشیدہ میری خوشیاں
ہر دم چمکتا تھا میرے لیے اے میری پیاری ماں
ساری رونقیں تیرے ہی دم سے تھیں اے ماں
تو جب رخصت ہوئ، تو رخصت ہوئ سب خوشیاں
دیر سے آنا کام سے جب بھی میرا
بھانپ لیتا تھا میں، تیری پشیما نـیاں
پھر دیکھ کر ہر طرح خیریت میری
کتنی ہوتی تھی تجھے شادمانیاں
میں نے پردیس کاٹا، تونے سہی یہ جدائیاں
مگر ہم سے اب نہیں سہی جاتی یہ جدائیاں
خدا نے بہشت بنا کے رکھ دی تیرے قدموں تلے
تو ہے جنت میری، تیرے پاوں تلے جنت ہے ماں
خدا بلند کرے تیرے درجات، کہ تو ہے وہاں
آئیں گے تیرے پاس اک دن یہ تسلی ہے یہاں
یاد کرتا ہوں تجھے ہر دم، اور روتا رہتا ھوں
نظام قدرت ہے موت بھی، کہ تو ملے گی اب کہاں
میرے اعمال میں تو کچھ بھی نہیں ہیں نیکیاں
تیری دعا سے امید ہے خدا کامیاب کریگا ہر امتحاں
تو نے سب کچھ کیا ہے ھمارے لیے
ھم کچھ بھی نہ کر پائے تمھارے لیے
اپنی ذات کے لیے تو نے نہ سوچا فائدہ کبھی
جب کہ تو نے ہر دم چاہی ھماری ہی بھلا ئیاں
کیا فائدہ اب پچھتاوں کے لکھنے کا
کہ تو دیکھ نہ سکے گی اب یہ لکھایاں
اب مانگتے ہیں اپنے رب سے پھر معا فیاں
پر یہ معافیاں نہ کر سکیں گی کبھی تلافیاں
وہ رحیم معاف کر دے گا تیری دعا سے
پر ضمیر میرا نہیں کرتا یہ مہربانیاں
کہ لگا نہ سکے تیرے لیے ہم اپنی ساری کمایاں
تو بچاتی رہی سب کچھ اور بچا دی پھر یہ پونجیاں
ربی اغفر کہہ کہ بچاتا ہوں اپنی جان
کہ یہاں بھی پائی اپنی خود غرضیاں
غلطیوں کا پتلا ہے یہ تیرا وسیم
تو درگزر کر دیتی تھی جس کی نالائقیاں
الفاظ نہیں ملتے کہ بیاں کروں تیری خوبیاں
کوئ تجھ سا نہیں، تجھ سا نہیں، تجھ سا نہیں اے ماں
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






