مجھے بہت ڈر لگتا
Poet: Ameel Anjum By: Ameel Anjum, Sheikhupuraکھبی کھبی مجھے بہت ڈر لگتا ہے
چاہت سے نہیں تیری رسوائی سے ڈر لگتا ہے
تُو تو وفا ہے میری چاہت ہے میری
مجھے وفا سے نہیں تیری بےوفائی سے ڈر لگتا ہے
یہ چاند سورج اور ستارے سب تیرے نام کر دوں
مجھے شہرت سے نہیں تیرے رسوائی سے ڈر لگتا ہے
یہ دھڑکن، سانس کیا ہیں سب تجھے دے دوں
مجھے زندگی سے نہیں تیری سانس رکنے سے ڈر لگتا ہے
تُو تو چلی گئی کسی اور کے ساتھ سرُخ جوڑے میں
اب مجھے کفن سے نہیں اپنے سہرے سے ڈر لگتا ہے
اب کس طرح جیتے اے امیل
اب موت سے نہیں زندگی سے ڈر لگتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






