مجھے تو موسم بہار نے بھی رولایا ہے

Poet: Pari By: Pari, lahore

دل کی دہلیز پر سناٹا چھایا ہے
محبت میں تنہائی کا موسم آیا ہے

پلکوں پر آنسو ہیں ٹھہرے بہت
آنکھوں کی بستی میں طوفان آیا ہے

اے دسمبر تجھے کیا الزام دوں میں
مجھے تو موسم بہار نے بھی رولایا ہے

Rate it:
Views: 509
25 Dec, 2011