مر جائیں گے تو کسی کے لب پہ نام ہو گا
Poet: عامر امتیاز By: عامر امتیاز, Rawalpindiمر جائیں گے تو کسی کے لب پہ نام ہو گا
ماتم ہو گا کہیں ، کہیں شہنایوں کا اہتمام ہو گا
کوئی روئے گا یاد کرے كے وفائیں
لبوں پہ کسی كے خوشیوں کا جام ہو گا
دولت اپنی ہاتھوں میں لے كے ڈھونڈے گا کوئی
نہ ملیں گے ہَم ، قیمت ہماری نہ کوئی دام ہو گا
کم ہو گا جب شبابِ الفت کسی پہ عامر
کر كے یاد تڑپے گا ، معاملہ یہ سرعام ہو گا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






