ملاوٹ ہے

Poet: Irfan Ali By: Irfan Ali, Rawalpindi

سہم جائیں جو ہو ا کی سرسراہٹ سے
کیا جئے گے وہ مر جاتے ہیں آہٹ سے

گر جاتے ہیں وہ در و دیوار اچانک
جن کی بنیاد اٹھی ہو ملاوٹ سے

دو قدم ہی رہے دوست ہمسفر
گریں منہ کے بل وہ اب تھکاوٹ سے

دلِ ویران کی وحشتیں بڑھ رہی ہیں
جم رہی ہےمحفل بڑی سجاوٹ سے

یہ ہنسی بھی کیا لوگوں پہ ہنستا ہے
کفر ٹپکتا ہے ایسی مسکراہٹ سے

 

Rate it:
Views: 466
11 May, 2012