موت
Poet: نادیہ عنبر لودھی By: Nadia umber Lodhi, Islamabadلمحہ لمحہ بڑھتی موت
قدم قدم پیچھے ہٹتی زندگی
فرشتوں کے پروں کی پھڑ پھڑ اہٹ فضا میں بڑھتی جارہی ہے
سفید نورانی ہیولے پھیلا رہے ہیں پر
فلک پر ایک نقرئی غبار بڑ ھتا جا رہا ہے
چڑیوں کی حمد کے ساتھ
گونج رہی ہے آواز بھی لا الہ کی
سوکھے لبوں سے لفظ نکلے مدہم مدہم سے
اور لا الہ الا للّٰہ کے ساتھ مل گئے
جان قدموں سے نکلی
جان ِ آفرین کے سپرد کر دی
زندہ پروں کی بست وکشود آسمانوں کی طرف گئی
رہی ہوں تنہا اب نا رہوں گی تنہا
جاگی ہوں تنہا اب نا سوؤنگی تنہا
میں نے تو تنہائی میں تیرا ہی ہاتھ تھاما تھا کردگارا
تجھ سے ناتا جوڑا تھا پروردگارا
ساتھ تُو تھا اور مرے لفظ تھے
بنتے ،مٹتے ،ابھرتے، چمکتے ،دمکتے لفظ
لفظ تو ساتھ نبھاتے ہیں
لفظ بے وفا نہیں ہوتے
لفظ ساتھ رہتے ہیں
لفظ جدا نہیں ہوتے
تربت پہ مری لائیں گے
اسیران ِ لوح و قلم کو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






