جو واجب بھی نہ تھے وہ قرض سر لگے

Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylie

کون ہے جو میرے سینے میں
دل بن کے دھڑکتا ہے
اور اشک بن کے میری آنکھوں سے ٹپکتا ہے
میری سانسوں میں الجھتا ہے
اور کانٹے کی طرح سے میری روح میں چبھتا ہے
کوئی ہے جو طلبگار ہے میرا
وہ تیشہ دار ہے میرا
اور دودھ کی نہر کھودنے کے لئے
سرپھرا، سات سمندر پار ہے میرا
قربانیوں کے نام پر کیا کیا نہ نشتر لگے
جو واجب بھی نہ تھے وہ قرض سر لگے
کوئی فرض اِک میں ہی فقط نہ تھی
میری تو کوئی شرط نہ تھی
میرے سب حق اِک طویل امتحاں کی تکمیل سے مشروط ہوئے
پر کون جانے کہ تب تلک
آہ میں اثر آنے تلک
زلف کے سر ہو جانے تلک
برف ہمارے سروں پر پڑ چکی ہو
اور دلوں پر بھی

Rate it:
Views: 1555
16 May, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL