مِرا سنسار ہے وہ
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہکیا اور بھلا میں پیش کرُوں سر یہ ہے مِرا دستار ہے وہ
دِل میرا ہُؤا گھائل گھائل چُپ سادھے ہُوئے فنکار ہے وہ
اِس رِزق نے میرے بچّوں کو مسلُوب کِیا، مجبُور کِیا
اِک روٹی کے ٹُکڑے کی خاطِر اِس پار ہے یہ اُس پار ہے وہ
مانا ہے کہ میری نس نس میں ہر شخص کا مان ہے بڑھ چڑھ کر
مالِک تو وہ ہوگا ہی دَھن کا پر فرد بڑا بیکار ہے وہ
اے عِشق تڑپ نا رہ رہ کر تُو سادہ دِلی کا مارا ہے
اب کیسا گِلہ، کیوں اُس نے کِیا جو کُچھ بھی کِیا دِلدار ہے وہ
دُکھ درد کے مارے لوگوں میں سُکھ بانٹ کے جِینا سِیکھ ذرا
جو جان گیا یہ بھید میاں سچ پُوچھو تو زردار ہے وہ
کِس دیس کا باسی ہے ساجن بس اِتنا کہُوں ہے من بھاوَن
میں شہر ہُوں اُس کی چاہت کا لو اب سے مِرا سنسار ہے وہ
کہنے کو اگرچہ دُور تو ہے پر دِل کے پاس رہے حسرت
کیا کوئی جُدا کر پائے گا اِک پُھول ہُوں میں مہکار ہے وہ
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






