مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadمٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر
چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر
معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی
تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر
پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں
خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر
ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں
تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف پھرا کر
کیا خوب لڑکپن تھاکہ ساون کے دنوں میں
تسکین ملا کرتی تھی بارش میں نہا کر
مانگے ہوئے سورج سے تو بہترہے اندھیرا
تو میرے لیے اپنے خدا سے نہ دعا کر
ترتیب ترے حسن کی مٹ جائے گی اک دن
دیوانے کی باتوں کو نہ بے ربط کہا کر
تحریر کا یہ آخری رشہ بھی گیا ٹوٹ
کتنا ہوں میں تنہا ترے مکتوب جلا کر
آتی ہیں بہت رات کو رونے کی صدائیں
ہمسائے کا احوال کبھی پوچھ لیا کر
وہ قحط ضیا ہے کہ مرے شہر کے کچھ لوگ
جگنو کو لئے پھرتے ہیں مٹھی میں دبا کر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






